Monday, October 25, 2010

اب صوفی دنیا کے سب سے خوبصورت ترین درویش شاعر فرید کے مزار پر پاک پتن میں دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے۔

اور اب صوفی دنیا کے سب سے خوبصورت ترین درویش شاعر فرید کے مزار پر پاک پتن میں دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے۔
فرید تو کئی صدیاں پہلے دہشت گردی کی انڈر ورلڈ کے لیے کہہ گیا تھا۔ 'دنیا گجھی بھاہ' کہ دنیا اک چھپی ہوئی آگ ہے۔ وہ آگ جو اب پاک پتن، پورے پاکستان اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہے۔
اس دن میں کہہ رہا تھا کہ پتہ ہے اس کا بیج کہاں بویا گيا تھا! جھنگ میں۔ ہیر کے جھنگ میں اور پھر دیکھتے دیکھتے یہ آگ پوری دنیا میں پھیل گئی۔ پشتو شاعر رحمان بابا، علی ہجویری داتا گنج بخش کے لاہور دربار میں، کراچي میں عبد اللہ شاہ غازی اور اب بابا فرید۔
حجاموں لختئیوں سے ٹپوں گيتوں سے
کبھی بدھ سے کبھی رحمان بابا کی غزل سے یہ الجھتے ہیں
(حسن مجتبی)

فلسفۂ تنگ نظری وانتہا پسندی یہ ہے کہ عوام الناس میں مقبول عقائد و خیالات پر ناکہ و ڈاکہ ڈالا جائے۔ یہ بیچارے دنیا اور دکھوں کے ستائے مرد و زن، یہ دیسی پردیسی عقیدت مند جو ان درباروں پر حاضری دیتے ہیں، پھول، شمعیں اور آنکھوں میں آنسوں لاتے ہیں، آسوں امیدوں سے اپنی جھولیاں بھر جاتے ہیں۔ یہ جیب کترے، یہ حالی موالی، یہ عاشق، یہ حسین و محبوب لوگ۔ یہ امیر و غریب، یہ ماتم گسار و مجرے باز، یہ پروانے، دیوانےاور مستانے جو پتنگوں کی طرح کھنچے چلے آتے ہیں۔ ان کی دلوں میں نہ کوئي انتہا پسند گھر کر سکتا ہے نہ ہی کوئی ان کے دل میں بسی بستیوں کے نقشوں کو بموں سے اڑا سکتا ہے اور نہ ہی شیخ فرید کے بولوں کو۔ آج تک انھیں مٹان کے لیے نہ تو کوئی گولی ایجاد ہوئی ہے اور نہ بم۔
کنھ مصلا، صوف گل، دل کاتی گڑ دات
باہر دسے چاننا دل اندھیاری رات
فرید
( کاندھے پر مصلا رکھے، گلے میں کالی کفنی پہنے، دل میں ذبح کرنے والی چھری اور منہ میں مٹھاس،
باہر سے تو روشنی لگتا ہے پر دل تاریک رات ہے)

فرید کی ایسی شاعری جو انتہا پسندوں اور ان کے فسلفے کو لڑتی ہے۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ با با فرید گنج شکر کی درگاہ پر ہی حملہ نہیں ہوا صدیوں قبل خود اُن کی زندگی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاریخ کی کتب میں اس حملہ آور کا حلیہ بھی بیان کیا گیاہے جس نے کوئی آٹھ سو برس پہلے حضرت بابا فریدالدین مسعودگنج شکر کی حیات میں بھی ان پر ایک قاتلانہ کیا تھا۔


تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ با با فرید گنج شکر کی درگاہ پر ہی حملہ نہیں ہوا صدیوں قبل خود اُن کی زندگی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاریخ کی کتب میں اس حملہ آور کا حلیہ بھی بیان کیا گیاہے جس نے کوئی آٹھ سو برس پہلے حضرت بابا فریدالدین مسعودگنج شکر کی حیات میں بھی ان پر ایک قاتلانہ کیا تھا۔
ماضی کا وہ حملہ آورچمڑے کا لباس اور کان میں بالی پہن کر آیا تھا۔بابا فرید سجدے میں تھے جب ملزم نے اس نے حملہ کا ارادہ کیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرتا ، با با فرید نے کہا کہ ’میں نے اسے معاف کردیا ہے۔ا
روایت ہے کہ اتنی بات پر وہ لرزہ براندام ہوا اور حملہ کیے بنا ہی بھاگ نکلا۔
تاریخ میں درج ہے کہ اس حملہ آور کو ایک ایسے شخص نے بھیجا تھا جو خود کو مذہب کا ٹھیکے دار سمجھتا تھا اور لوگوں کو کہتا تھا کہ با با فرید گنج شکر کوئی خلاف شریعت کام کرتے ہیں۔
ان پر حملے کرنے اور کروانےوالے کا آج تاریخ میں نام و نشان نہیں ہے مگر با با فرید گنج شکر کے نام کا ڈنکا پورے ہندوپاکستان میں بج رہا ہے۔
البتہ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مذہبی اور مسلکی اختلاف پر دوسروں کی جان لینے کا کام نیکی سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔
با با فرید حصول علم کے لیے ملتان، قندھار، بدخشان، بخارا اور بغداد بھی گئے۔
وہ عالم دین ہونے کے علاوہ عظیم صوفی اور مبلغ بھی تھے لیکن انہوں نے خواص کی زبانوں عربی فارسی اردو کی بجائے عام لوگوں سے ان کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دی اور بعض مؤرخین انہیں پنجابی کا پہلا شاعر بھی قرار دیتے ہیں۔انہوں نے عربی، فارسی اور ہندی بھی شاعری کی ہے۔
ان سے منسوب اکثر اشعار قرآن پاک کی آیات کی تفسیر اور احادیث کے تراجم پر مبنی ہیں اور سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب میں بھی ایسے اشلوک ملتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بابا فرید الدین گنج شکر کا کلام ہے اور با با گرونانک نے اپنے کلام میں ان کی شاعری استعمال کی تھی۔
 
بابا فرید کی درگاہ پر سکون کی تلاش میں آنے والوں کے لیے زندگی بھر کا دکھ
با با فریدالدین گنج شکر نے رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر ہمیشہ کل انسانیت کی بات کی۔
ایک بار انہیں کسی نے قینچی کا تحفہ دیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے قینچی کا نہیں سوئی کا تحفہ دو۔ قینچی الگ کردیتی ہے اور سوئی قیمت دیکھتی ہے نہ رنگ بس یہ آپس میں ملاتی ہے۔
روایت ہے کہ کابل پر جب چنگیز خان نے حملہ کیا تو با با فرید کےدادا ہجرت کرکے قصور میں قیام پذیر ہوئے تھے۔
خود با با فرید نے بادشاہوں کی قربت والی جگہ سے بے زار ہوکر پہلے دلی اور بعد میں ہانسی چھوڑی اوردریائے ستلج کے کنارے اس وقت کے اجاڑ علاقے اجودھن میں ڈیرہ لگایا جو آج پاکپتن شریف کے نام سے مشہور ہے۔
بابا فرید الدین گنج شکر کا مزار بظاہر ان حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت ملک بھر میں مزارات کو دھماکوں کانشانہ بنایا جارہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح مسلک سے اختلاف کرنے والوں کو علی ہجویری کے مزار کو داتا کا دربار کہنے پر اعتراض ہے اسی طرح حضرت بابا فرید گنج شکر کے بہشتی دروازے پر بھی وہ معترض ہیں۔
یہ جنوبی دروازہ ان کے عرس پر کھولا جاتا ہے اورہزاروں کی تعداد میں لوگ اس دروازے سے گذرنا چاہتے ہیں کیونکہ روایت ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء نے وجد کے عالم میں تالی بجا کرکہا تھا کہ جو اس دروازے سے گذرے گا وہ امن پائے گا۔
حملہ آوروں نے امن کے خواہشمندوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا ہے لیکن خود با با فرید گنج شکر کہتے ہیں کہ:
فریدا برے دا بھلا کر غصہ نہ من ہنڈاء
دیہی روگ نہ لگیے، پلے سب کچھ پاء
(فرید تو برے سے اچھا سلوک کر تاکہ غصہ کہیں تیرے دل پر قابض نہ ہوجائے، اگر تم اپنے آپ کو روگ نہیں لگانا چاہتے تو غصہ والی تمام چیزوں کو سمیٹ لو)
 نا کافی شواہد کے با عث بری ہونے والوں میں ڈاکٹرعبدالرزاق، محمد الیاس، محمد سرفراز، محمد نعیم، اسامہ بن وحید، محمد رضوان، محمد ندیم ذیشان خلیل، ڈاکٹرمحمد عثمان، میرافضل، راناالیاس اور تحسین اللہ جان شامل ہیں۔
      
       انہیں دہشت گردوں نےملک میں انت مچادی رہا ہونے والوں نے ملک بھرمیں د ہشت گردی
       کی انتہائی سنگین وارداتیں کیں پولیس اور پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ نے گرفتار دہشت گردوں کو صاف بچا لیا۔
      
       پنجاب نے تمام ملزمان کی رہائی کا ذمہ دار فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قرار دیدیا
      
       فوج نے نہ تو کسی واردات کا مقدمہ درج کرایا اور نہ ہی گواہی دی۔
      
       سارا کام پولیس نے خود کیا فوج اور ایجنسیوں کی طرف سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا
      
       دہشت گردوں کی رہائی ایک ایسا حساس معاملہ ہے جس پر تمام سیا سی جماعتوں کو ایک ہونا چاہیے تھا اور اعلٰی سطح پراس بات کی انکوائری کی جانی چاہیے تھی کہ ایسا کیسے اور کیوں ہوا؟
      
      
       لیکن اس بات کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومتیں د ہشتگردی کے عفریت کو ختم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔
      
      
       اس کا سیدھا مطلب یہ بھی ہوا کہ پاکستان کے عوام د ہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اور حکومتی نااہلیوں کی وجہ سے تمام دہشت گرد رہا ہوچکے ہیں۔
      
      
      
       پنجاب میں د ہشت گردی کی پے در پے کاروائیوں اور اس میں سینکڑوں بے گناہوں
       کی شہادت کے بعد وفاقی حکومتوں کے ذمہ داران میں لفظوں کی جنگ جاری ہے۔
      
       یہ
       جنگ اس وقت شدت اختیارکرگئی جب لاہورمیں داتادربارپرخودکش حملےکےبعداس کےذمہ
       داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
      
       صوبائی حکومت کی طرف سےانٹیلی جنس شئیرنہ کرنےکے الزام کو وزیرداخلہ رحمان ملک نے مستردکردیا۔
      
       جبکہ سی آئی ڈی پنجاب نے اس تنبیہی خط کی توثیق کردی جس کےتحت داتا دربار پر خودکش حملےکی اطلاع دیتےہوئےپولیس کوحفاظتی انتظامات بہتربنانےکو کہا گیا تھا۔
      
       تاہم اطلاع کےباوجود پولیس سوئی رہی اورد ہشت گردوں کو ایک ایسی مقدس جگہ دہشت گردی کی کاروائی کرنے کا موقعہ مل گیاجو تمام مکاتب فکر کے نزدیک قابل احترام ہے۔
 اس طرح پنجاب حکومت کی ناکامی ثابت ہو گئی۔تاہم یہ تو وہ معاملہ ہے جو سب کے سامنے ہےلیکن پنجاب حکومت نےاس واقعہ میں اپنی نالائقی اورغیرذمہ داری چھپانے کےلئےعوام کے سامنے کئی اور ایشو کھڑے کر دیے جس کی وجہ سے داتا دربارمیں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی۔
      
       پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرارداد مذمت پیش کر کے مسلم لیگ نوازنے اپنے آ پ
       کوننگا کردیا۔ اس مذمتی قرارداد پر ملک بھرمیں احتجاج جاری ہےتاہم اگر
       دیکھا جائے توان معاملات سے زیادہ ایک اور بڑا معاملہ بھی ہےجو پنجاب حکومت
       کی ناکامی،نالائقی اور غیرذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
      
       پنجاب میں اگر گذ شتہ دو سالوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا جائزہ لیا جائےتو پتہ چلے گا کہ یہ تمام کاروائیاں انہی دہشت گردوں نے کیں جنہیں ا نٹیلی جنس ایجنسیوں نے پہلے دن رات کی تگ ودو کے بعد گرفتارکیااور بعد ازاں پنجاب حکومت کی کمزور پراسیکیوشن اورشواہد اعلٰی عدالتوں میں پیش نہ کرنے کے سبب رہا ہو گئے تھے۔
      
       یہ حقیقت کیسے چھپائی جا سکتی ہے کہ صرف پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی
       خصوصی عدالتوں سے میریٹ ہوٹل اور مناواں ٹریننگ سکول کے حملوں کے علاوہ
       صوبہ بھر میں خود کش حملوں،بم دھماکہ،فرقہ وارانہ دہشت گردی کی کاروایئوں
       میں ملوث 473 مقدمات کے ملزمان بری ہو چکے ہیں۔
      
       یہاں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پرہونے والے حملے کا ذکر کیا جائے یا اس سے قبل اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے خود کش حملے کا،یا پھرجی ایچ کیو میں دہشت گردوں کے خوفناک حملے کی بات کی جائے،ان سب کے تانے بانے ایک ہی جگہ سے ملیں گے اور ان تمام حملوں کی تحقیقات کے بعد یہی بات سامنے آئی کہ یہ تمام حملے
       انہی دہشت گردوں نے کئے جنہیں پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں اعلٰی عدالتوں نے انہیں اس بناء پر رہا کر دیا کہ ان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔
      
      
       مناواں سینٹرحملہ کیس میں ہجرت اللہ اور میریٹ ہوٹل حملہ کیس میں جی ایچ کیو سے پکڑے جانے والے ماسٹرمائنڈ ڈاکٹر عثمان کے بری ہونے کا اعلٰی عدلیہ نے بھی سخت نوٹس لیا۔ لیکن ان کےاس نوٹس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔
      
       یہ ایک ایسا حساس معاملہ ہےجس پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہونا چاہیے تھااور اعلٰی سطح پر اس بات کی انکوائری کی جانی چاہیے تھی کہ ایسا کیسے اور کیوں ہوا؟ لیکن اس بات کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئ۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومتیں د ہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔اس کا سیدھا مطلب یہ بھی ہوا کہ پاکستان کے عوام د ہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اور حکومتی نااہلیوں کی وجہ سے تمام د ہشت گرد رہا ہوچکے ہیں۔
      
       اگر اس حوالے سے سرکاری اعدادو شمار کاجائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پنجاب میں 2009ء کے دوران انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں نے دہشت گردی کے629 مقدمات کے فیصلے کئے جن میں دہشت گردی کے 471مقدمات میں ملزموں کو
       بری کیا گیا جبکہ صرف 158 مقدمات کے ملزموں کو سزا سنائی گئی۔
      
       یہاں اگر راولپنڈی اور اسلام آباد میں گذشتہ اڑھائی سال کے دوران دہشت گردی
       کے واقعات میں ملوث افراد کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جڑواں
       شہروں میں دہشت گردی کے سات اہم واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد تفتیش
       کرنے والے اداروں کی جانب سےٹھوس شواہد پیش نہ ہونے کی بنا پر مقدمات سے
       بری ہو چکے ہیں۔
      
       ان مقدمات میں میریٹ ہوٹل کے مرکزی دروازے پر بارود سے بھرے ہوئے ٹرک سے
       ہونے والا حملہ،اسی ہوٹل کی کار پارکنگ میں ہونے والا بم دھماکہ،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے دوران اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ مرکز میں اُن کے استقبالیہ کیمپ پر ہونے والا خودکش حملہ،آبپارہ مارکیٹ میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر ہونے والے خودکش حملے،راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹر کے قریب انٹر سروسز ا نٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کی بس پر ہونے والاخودکش حملہ اورفوج کے سرجن جنرل لیفٹینٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہونے والے خودکش حملےکے علاوہ کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے بس پر ہونے والا خودکش حملہ بھی شامل ہے۔
      
       ایک محتاط اندازے کے مطابق ان واقعات میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں
       میں اکثریت کا تعلق فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھا۔
      
       تحقیقاتی اداروں نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان پر مقدمات چلے تاہم پولیس ان پرمقدمات کو ثابت نہ کر سکی اور ان حملوں میں ملوث ملزمان کی اکثریت رہا ہو کر دوبارہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں مشغول ہو گئی۔ ان مقدمات میں بری ہونے والوں میں ڈاکٹرعبدالرزاق،محمد الیاس،محمدخلیل،ڈاکٹرمحمد عثمان،امیرافضل،راناالیاس اور تحسین اللہ جان شامل ہیں۔
      
       میریٹ ہوٹل کیس میں دو افراد کواشتہاری قرار دیا گیا۔ جبکہ ان حملوں میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹرعبدالرزاق پاکستان ریلوے کے ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔
      
       وفاقی حکومت کی طرف سے میریٹ ہوٹل پر حملے کے مقدمے میں رہا ہونے والے
       ملزمان کی دس روز کے لیے نظر بندی کے احکامات جاری کر دیئے،بعدازاں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم پر ان افراد کی نظر بندی کےاحکامات ختم کر دیے گئے۔ اس طرح یہ ملزمان رہا ہو گئے۔
      
       رہا ہونے والوں میں ڈاکٹرعثمان کا نام بھی شامل تھا۔ اسی ڈاکٹرعثمان نے بعدازاں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کیااور اس کے بعد وہ جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے میں بھی ملوث رہا۔بلکہ وہ جی ایچ کیو پر ہونے والے حملوں کا ماسٹرمائنڈ بھی تھا۔
      
       یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فوج کے سرجن جنرل پر حملہ کرنے والے گروہ
       کے ارکان نے ڈنمارک سفارت خانے کے باہر ہونے والے خود کش حملے اور نیول وار
       کالج کے باہر ہونے خود کش حملوں میں بھی ملوث تھے۔ اس کے علاوہ 2009ء میں
       انسداد دہشت گردی کی عدالت اور راولپنڈی سابق صدر پرویزمشرف کے طیارے کو
       نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو افراد داکٹر نیاز اور مظہرالحق کو بھی عدم ثبوت کی بنا پر اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔
      
       آئی ایس آئی کی بس اور پاکستانی فوج کے سرجن جنرل پرہونے والے مقدمات کی پیروی بہترانداز میں نہ کرنے کی بنا پران مقدمات میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے پبلک پراسیکیوٹر صفدر جاوید کو معطل کر کے اُس کے خلاف تحقیقات کاحکم دے دیا گیا لیکن اس کا وہی نتیجہ نکلا جو نکلنا چاہیے تھا کہ آج تک اس بات کا پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اس تحقیقات کا کیا بنا؟
      
       تاہم پنجاب حکومت ان ملزمان کی رہائی کی اور ہی داستان سناتی ہے۔ پنجاب حکومت کے مطابق ان تمام ملزمان کی رہائی کی ذمہ دار صوبائی حکومت نہیں بلکہ فوج اور وفاقی حکومت کے دائرہ احتیار میں آنے والی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔
سلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بابا فرید شکر گنج کے مزار کے باہر بم دھماکے پر صدر آصف علی زرداری ،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت ملک کی دیگر سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شدید مذمت کی ہے ۔رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پاک پتن میں حضرت بابر فریدگنج شکر کے مزار پردھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام پر پہنچا کر دم لیا جائے گا۔صدر اور وزیراعظم نے اپنے مذمتی بیان میں دھماکے کے متاثرین سے مکمل ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے ۔وزیراعظم نے اس واقعہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کی نظر میں کسی بھی مذہب کا احترام موجود نہیں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اپنے بیان میں اس دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سنی تحریک کے رہنماءمولانا کوکب نورانی نے کہا ہے کہ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر دھماکا فسادات کرانے کی سازش ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ دھماکا ملک میں خانہ جنگی کی سازش ہے اور حکومت اس کے ذمہ داروں کو سامنے لائے۔اس کے علاوہ سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری ، گدی نشین عصمت دیوان ،سنی اتحاد کونسل کے سیکریٹری جنرل حاجی حنیف طیب ،متحدہ کے قائد الطاف حسین ،اے این پی کے رہنماﺅں اسفند یار ولی، سینیٹر زاہد خان،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد،وزیر مملکت برائے اطلاعات صمصام بخاری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے حضرت بابا فرید کے مزار پر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔